:
Breaking News

Sanjay Raut News: کانگریس ایم ایل سی کو 20 کروڑ کی پیشکش؟ سنجے راؤت کا بڑا دعویٰ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس کے ایم ایل سی دھیرج لنگاڈے کو پارٹی بدلنے کے لیے 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی۔ تاہم لنگاڈے اور بی جے پی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) دھیرج لنگاڈے کو پارٹی تبدیل کرنے کے لیے 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اگرچہ اس دعوے کے فوراً بعد دھیرج لنگاڈے نے اسے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی راؤت کے بیان کو مسترد کر دیا۔ اس بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر عوامی نمائندوں کو مسلسل توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں کہ کانگریس کے ایم ایل سی دھیرج لنگاڈے کو 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی تاکہ وہ اپنی جماعت چھوڑ دیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پیشکش کس نے کی اور کس سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لیے کی گئی۔

راؤت نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت ایک خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے مناسب نہیں اور ہر سیاسی جماعت کو اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ وقت پر رکنا نہیں جانتے، انجام کار انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے ایم ایل سی دھیرج لنگاڈے نے سنجے راؤت کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی بھی قسم کی کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بیان سے خود حیران ہیں اور اپنی جماعت کے ساتھ پوری مضبوطی سے وابستہ ہیں۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور مہاراشٹر حکومت کے وزیر گریش مہاجن نے بھی راؤت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت اکثر بغیر ثبوت کے فرضی دعوے کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیو سینا (یو بی ٹی) کو دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مہاراشٹر میں آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر ایسے بیانات ماحول کو مزید گرم کر سکتے ہیں۔ تاہم سنجے راؤت کی جانب سے اپنے دعوے کے حق میں اب تک کوئی دستاویزی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ فی الحال صرف الزامات اور جوابی الزامات تک محدود نظر آ رہا ہے۔

اگر مستقبل میں اس معاملے میں کوئی نیا ثبوت یا سرکاری بیان سامنے آتا ہے تو مہاراشٹر کی سیاست میں اس کے دور رس اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: • مہاراشٹر کی تازہ سیاسی خبریں — Alam Ki Khabar • ملک بھر کی اہم سیاسی اپ ڈیٹس — Alam Ki Khabar • پارلیمنٹ اور ریاستی سیاست کی بڑی خبریں — Alam Ki Khabar

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *